اوکاڑہ میں پیش آیا خوفناک واقعہ جدید دور کی کرامات : بھائیوں کا رشتہ کچا دھاگہ ، خون گٹر کا گندہ پانی بن گیا

 


جدید دور کی کرامات : بھائیوں کا رشتہ کچا دھاگہ ، خون گٹر کا گندہ پانی بن گیا ۔۔۔ اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں میں دو ہفتے قبل پیش آیا افسوسناک واقعہ ۔۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا احمد کمال اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل اپنے بھائی ملک سلیم کے ساتھ ملکر ایک پلاٹ خریدا تھا جسکی مالیت 25 لاکھ روپے تھے ۔ یہ پلاٹ دونوں بھائیوں کا مشترکہ تھا اور اس میں دیگر بڑے بھائیوں کا عمل دخل نہ تھا لیکن احتیاطی طور پر احمد کمال اور ملک سلیم نے فیصلہ کیا کہ پلاٹ کا اشٹام بڑے بھائی رشید کے پاس رکھ دیا جائے تاکہ کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو ۔ احمد کمال کی کمزوری یہ تھی کہ وہ اپنے بڑے بھائیوں کا بے حد احترام کرتا تھا انہیں باپ کا درجہ دیتا تھا ۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بڑے بھائی رشید نے چند ماہ بعد امانت میں خیانت کی اور پلاٹ کا چوری چھپے سودا کرکے فروخت کردیا ۔ اس بات کا پلاٹ کے اصل مالکوں یعنی احمد کمال اور ملک سلیم کو پتہ چلا تو انہوں نے بڑے بھائیوں کے پاس جاکر ڈھکی چھپی شکایت کی اور کسی قانونی کارروائی کی بجائے اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا جو انہوں نے پلاٹ پر لگائے تھے اس پر بڑا بھائی رشید اور اسکے بیٹے آپے سے باہر ہو گئے ۔ ایک روز تو انہوں نے د۔ھمکی دی کہ اگر پلاٹ یا پیسوں کا نام لیا تو تمہاری خیر نہیں ۔۔۔ مگر احمد کمال نے چند روز بعد یعنی وقوعہ کے روز پھر پیسوں کا مطالبہ کیا تو سگے بھائی دشمن بن گئے دو بھائیوں اور انکے بیٹوں نے ملکر احمد کمال پر دھاوا بول دیا ۔ لکڑی کے ڈنڈوں سے اسے مارا ، اس پر اینٹیں برسائیں جنکی زد میں آکر احمد کمال کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہو گیا ، اپنے زخمی شوہر کو بچانے کی لیے احمد کمال کی بیوی مہوش گھر سے باہر آئی اور اپنے شوہر کی ڈھال بنی تو دیور اور انکے بیٹوں نے احترام تقدس کو پامال کرتے ہوئے خاتون پر اینٹوں اور لکڑی کے موٹے بالوں سے تش۔دد کیا ۔ 6 ماہ کی حاملہ خاتون سر میں اینٹ لگنےاور بے تحاشا خون بہنے سے انتقال کر گئی ۔۔۔۔۔احمد کمال اس وقت گھر میں بستر پر پڑا ہے اسکی حاملہ بیوی کے ق۔ت۔ل کا مقدمہ اسکے بھائیوں اور بھتیجوں پر درج ہے جن میں سے چند ایک گرفتار اور باقی فرار ہیں ۔ احمد کمال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اس دور میں پیسے اور جائیداد کے حوالے سے سگے رشتوں پر بھی اعتبار نہ کریں کیونکہ یہ اعتبار کا زمانہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔


 


جدید دور کی کرامات : بھائیوں کا رشتہ کچا دھاگہ ، خون گٹر کا گندہ پانی بن گیا ۔۔۔ اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں میں دو ہفتے قبل پیش آیا افسوسناک واقعہ ۔۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا احمد کمال اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل اپنے بھائی ملک سلیم کے ساتھ ملکر ایک پلاٹ خریدا تھا جسکی مالیت 25 لاکھ روپے تھے ۔ یہ پلاٹ دونوں بھائیوں کا مشترکہ تھا اور اس میں دیگر بڑے بھائیوں کا عمل دخل نہ تھا لیکن احتیاطی طور پر احمد کمال اور ملک سلیم نے فیصلہ کیا کہ پلاٹ کا اشٹام بڑے بھائی رشید کے پاس رکھ دیا جائے تاکہ کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو ۔ احمد کمال کی کمزوری یہ تھی کہ وہ اپنے بڑے بھائیوں کا بے حد احترام کرتا تھا انہیں باپ کا درجہ دیتا تھا ۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بڑے بھائی رشید نے چند ماہ بعد امانت میں خیانت کی اور پلاٹ کا چوری چھپے سودا کرکے فروخت کردیا ۔ اس بات کا پلاٹ کے اصل مالکوں یعنی احمد کمال اور ملک سلیم کو پتہ چلا تو انہوں نے بڑے بھائیوں کے پاس جاکر ڈھکی چھپی شکایت کی اور کسی قانونی کارروائی کی بجائے اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا جو انہوں نے پلاٹ پر لگائے تھے اس پر بڑا بھائی رشید اور اسکے بیٹے آپے سے باہر ہو گئے ۔ ایک روز تو انہوں نے د۔ھمکی دی کہ اگر پلاٹ یا پیسوں کا نام لیا تو تمہاری خیر نہیں ۔۔۔ مگر احمد کمال نے چند روز بعد یعنی وقوعہ کے روز پھر پیسوں کا مطالبہ کیا تو سگے بھائی دشمن بن گئے دو بھائیوں اور انکے بیٹوں نے ملکر احمد کمال پر دھاوا بول دیا ۔ لکڑی کے ڈنڈوں سے اسے مارا ، اس پر اینٹیں برسائیں جنکی زد میں آکر احمد کمال کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہو گیا ، اپنے زخمی شوہر کو بچانے کی لیے احمد کمال کی بیوی مہوش گھر سے باہر آئی اور اپنے شوہر کی ڈھال بنی تو دیور اور انکے بیٹوں نے احترام تقدس کو پامال کرتے ہوئے خاتون پر اینٹوں اور لکڑی کے موٹے بالوں سے تش۔دد کیا ۔ 6 ماہ کی حاملہ خاتون سر میں اینٹ لگنےاور بے تحاشا خون بہنے سے انتقال کر گئی ۔۔۔۔۔احمد کمال اس وقت گھر میں بستر پر پڑا ہے اسکی حاملہ بیوی کے ق۔ت۔ل کا مقدمہ اسکے بھائیوں اور بھتیجوں پر درج ہے جن میں سے چند ایک گرفتار اور باقی فرار ہیں ۔ احمد کمال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اس دور میں پیسے اور جائیداد کے حوالے سے سگے رشتوں پر بھی اعتبار نہ کریں کیونکہ یہ اعتبار کا زمانہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے