اس معاشرے میں نہ بدمعاش کی کوئی زندگی ہے اور نہ شریف کی چھانگا مانگا میں 2 ہفتے قبل پیش آیا لرزہ خیز واقعہ


اس معاشرے میں نہ بدمعاش کی کوئی زندگی ہے اور نہ شریف کی ۔۔۔۔!!!چھانگا مانگا میں 2 ہفتے قبل پیش آیا لرزہ خیز واقعہ ۔ ایک گھر کی بربادی کی داستان سن کر آپ بھی افسردہ ہو جائیں گے ۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا لیاقت علی عرف لیاقت فوجی چھانگا مانگا کے ایک نواحی گاؤں کا رہائشی تھا ۔ 2006 میں زمینوں اور فصلوں کے تنازعے پر گاؤں میں ایک جھگڑا ہوا جس میں ایک شخص ق۔ت۔ل ہو گیا ، مق۔تول کے لواحقین نے الزام لیاقت علی پر لگا دیا حالانکہ بظاہر اس واقعہ میں لیاقت ملوث نہیں تھا ۔ لیاقت کی چند سال قبل شادی ہوئی تھی اور اسکا 6 ماہ کا ایک ہی بیٹا تھا ۔۔ لیاقت کو نامزد کردیا گیا وہ گرفتار ہوا اور جیل چلا گیا سیشن عدالت نے اسے سزا۔ئے موت سنا دی ۔ اس دوران لیاقت کی والدہ انتقال کر گئیں اور وہ انکا آخری دیدار نہ کرسکا بس جیل کی سلاخوں کے پیچھے روتا رہا ۔ چند ماہ بعد اسے ایک اور صدمہ ملا 2015 میں اسکا 10 سالہ بیٹا ابلتے تیل کی کڑاہی میں گر گیا اور چند دن لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گیا ۔ بچے کی میت جیل لے جائی گئی اور جب لیاقت کو اسکے بیٹے کا چہرہ دکھایا گیا تو لیاقت زارو قطار روتے ہوئے بے ہوش ہو گیا ۔ لیاقت فوجی کے ورثاء اپیلیں کرتے رہے مقدمہ لڑتے رہے ۔ ایک سے دوسری عدالت کا دروازہ کھٹکٹھاتے رہے آخر کار سپریم کورٹ نے 2021 میں لیاقت کو بے گناہ قرار دے کر باعزت بری کردیا ۔ صدمات سہہ سہہ کر لیاقت علی مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکا تھا وہ واپس گاؤں آیا تو اس نے سب سے پہلے علاقے کے معززین اور بزرگوں کی منت سماجت کرکے 2006 کے واقعہ کے مق۔تول خاندان سے مسجد میں بیٹھ کر صلح کر لی ۔ مق۔تول کے لواحقین نے صلح کر لی مگر شرط رکھی کہ لیاقت اس گاؤں میں اور انکی نظروں کے سامنے نہیں آئے گا ۔ لیاقت نے شرط مان لی اور اپنی بیوی کو لے کر کئی میل دور ایک اور گاؤں میں جا بسا اور محنت مزدوری کرکے وقت گزارنے لگا ۔ نئے گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اتنا شریف خوش اخلاق اور ملنسار انسان کبھی نہیں دیکھا جیسا لیاقت تھا ، 2023 میں لیاقت کو اللہ نے ایک اور بیٹے سے نوازا ۔ وہ بیٹے کو پاکر بہت خوش تھا اسکی بیوی کو بھی لگتا تھا اب انکی زندگی کے دکھ ختم ہو گئے ہیں ۔ مگر نہیں لیاقت فوجی اور اسکے خاندان کے حصے کے دکھ ابھی باقی تھے ۔۔۔ پچھلے ماہ یعنی ستمبر کے اواخر میں لیاقت علی بیوی کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ چائے بناؤ میں 20 منٹ میں آرہا ہوں ۔ اسے نہ کسی نے کبھی د۔ھمکی دی تھی نہ کسی سابقہ مخالف سے آمنا سامنا ہوا تھا ، رشتہ دار بھی خود اسے نئے گھر میں ملنے آتے تھے ۔ لیکن اس روز لیاقت گھر سے گیا تو آدھے گھنٹے بعد خبر آگئی اسے کسی نے چھانگا مانگا مین روڈ پر 7 گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کر دیا ہے ۔۔۔۔ مق۔تول لیاقت فوجی کی بیوہ کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ میں زندگی میں دو بار بیوہ ہوئی ہوں پہلے 15 سال کی قید میں بھی بیوہ تھی اور اب چند سالوں کی خوشیاں دے کر فوجی مجھے پھر بیوہ کر گیا ہے ۔۔۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیاقت فوجی کے لواحقین نے ق۔ت۔ل کا مقدمہ 2006 کے مق۔تول کے بھائی کے خلاف درج کروایا ہے جو تاحال مفرور ہے اور پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم لیاقت فوجی مرحوم کی بیوہ اور دیگر سوگواروں کو صبر عطا کرے ۔۔۔۔ آمین ثم آمین ۔۔۔


 


اس معاشرے میں نہ بدمعاش کی کوئی زندگی ہے اور نہ شریف کی ۔۔۔۔!!!چھانگا مانگا میں 2 ہفتے قبل پیش آیا لرزہ خیز واقعہ ۔ ایک گھر کی بربادی کی داستان سن کر آپ بھی افسردہ ہو جائیں گے ۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا لیاقت علی عرف لیاقت فوجی چھانگا مانگا کے ایک نواحی گاؤں کا رہائشی تھا ۔ 2006 میں زمینوں اور فصلوں کے تنازعے پر گاؤں میں ایک جھگڑا ہوا جس میں ایک شخص ق۔ت۔ل ہو گیا ، مق۔تول کے لواحقین نے الزام لیاقت علی پر لگا دیا حالانکہ بظاہر اس واقعہ میں لیاقت ملوث نہیں تھا ۔ لیاقت کی چند سال قبل شادی ہوئی تھی اور اسکا 6 ماہ کا ایک ہی بیٹا تھا ۔۔ لیاقت کو نامزد کردیا گیا وہ گرفتار ہوا اور جیل چلا گیا سیشن عدالت نے اسے سزا۔ئے موت سنا دی ۔ اس دوران لیاقت کی والدہ انتقال کر گئیں اور وہ انکا آخری دیدار نہ کرسکا بس جیل کی سلاخوں کے پیچھے روتا رہا ۔ چند ماہ بعد اسے ایک اور صدمہ ملا 2015 میں اسکا 10 سالہ بیٹا ابلتے تیل کی کڑاہی میں گر گیا اور چند دن لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گیا ۔ بچے کی میت جیل لے جائی گئی اور جب لیاقت کو اسکے بیٹے کا چہرہ دکھایا گیا تو لیاقت زارو قطار روتے ہوئے بے ہوش ہو گیا ۔ لیاقت فوجی کے ورثاء اپیلیں کرتے رہے مقدمہ لڑتے رہے ۔ ایک سے دوسری عدالت کا دروازہ کھٹکٹھاتے رہے آخر کار سپریم کورٹ نے 2021 میں لیاقت کو بے گناہ قرار دے کر باعزت بری کردیا ۔ صدمات سہہ سہہ کر لیاقت علی مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکا تھا وہ واپس گاؤں آیا تو اس نے سب سے پہلے علاقے کے معززین اور بزرگوں کی منت سماجت کرکے 2006 کے واقعہ کے مق۔تول خاندان سے مسجد میں بیٹھ کر صلح کر لی ۔ مق۔تول کے لواحقین نے صلح کر لی مگر شرط رکھی کہ لیاقت اس گاؤں میں اور انکی نظروں کے سامنے نہیں آئے گا ۔ لیاقت نے شرط مان لی اور اپنی بیوی کو لے کر کئی میل دور ایک اور گاؤں میں جا بسا اور محنت مزدوری کرکے وقت گزارنے لگا ۔ نئے گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اتنا شریف خوش اخلاق اور ملنسار انسان کبھی نہیں دیکھا جیسا لیاقت تھا ، 2023 میں لیاقت کو اللہ نے ایک اور بیٹے سے نوازا ۔ وہ بیٹے کو پاکر بہت خوش تھا اسکی بیوی کو بھی لگتا تھا اب انکی زندگی کے دکھ ختم ہو گئے ہیں ۔ مگر نہیں لیاقت فوجی اور اسکے خاندان کے حصے کے دکھ ابھی باقی تھے ۔۔۔ پچھلے ماہ یعنی ستمبر کے اواخر میں لیاقت علی بیوی کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ چائے بناؤ میں 20 منٹ میں آرہا ہوں ۔ اسے نہ کسی نے کبھی د۔ھمکی دی تھی نہ کسی سابقہ مخالف سے آمنا سامنا ہوا تھا ، رشتہ دار بھی خود اسے نئے گھر میں ملنے آتے تھے ۔ لیکن اس روز لیاقت گھر سے گیا تو آدھے گھنٹے بعد خبر آگئی اسے کسی نے چھانگا مانگا مین روڈ پر 7 گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کر دیا ہے ۔۔۔۔ مق۔تول لیاقت فوجی کی بیوہ کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ میں زندگی میں دو بار بیوہ ہوئی ہوں پہلے 15 سال کی قید میں بھی بیوہ تھی اور اب چند سالوں کی خوشیاں دے کر فوجی مجھے پھر بیوہ کر گیا ہے ۔۔۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیاقت فوجی کے لواحقین نے ق۔ت۔ل کا مقدمہ 2006 کے مق۔تول کے بھائی کے خلاف درج کروایا ہے جو تاحال مفرور ہے اور پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم لیاقت فوجی مرحوم کی بیوہ اور دیگر سوگواروں کو صبر عطا کرے ۔۔۔۔ آمین ثم آمین ۔۔۔


 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے